اقوال حافظ ملت کی معنویت و ہمہ گیریت ۔محمد تحسین رضا مصباحی

اقوال حافظ ملت علیہ الرحمۃ کی معنویت و ہمہ گیریت۔ایک مختصرترین جائزہ
پہلی قسط
از۔محمد تحسین رضا مصباحی
بزرگان دین سےعقیدت و محبت ایک قابل رشک امر ہے،ان کے اقوال ،افعال اورسیرت و کردار کو اپنانا یقینا دنیا میں کامیابی کی ضمانت اور آخرت میں سرخروئی و سربلندی کا باعث ہے۔یہ اس امت کی خوش نصیبی ہے کہ ہمیشہ ہر دور میں اللہ نے اس امت میں ایسے افراد پیدا کئے جن کے دامن کرم سے وابستہ ہو کر دیوانوں نے بے چین دل کی تسکیں کا ساماں کیا اور جن کے فیضان نظر سے ہزاروں افراد مقصود اصلی کے حصول کی کوششوں میں مصروف ہوئے ۔بزرگوں کی آمدکا یہ سلسلہ دور صحابہ سے تا ہنوز جاری ہے۔
میں ابھی بات کر رہا ہوں ماضی قریب کے ان بزرگان دین کی جنہوں نے تقریروتحریر اورتدریس کو ذریعہ بنا کر خدمت دین متین کا فریضہ سر انجام دیا اور مختلف حکمتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ہر فردِمعاشرہ میں دینی حمیت بیدار کرنے کی کوشش فرمائی۔ اللہ نے ان کی خدمت کو قبول فرمایا اس کی ایک بڑی دلیل یہ ہےکہ ہم اپنے درمیان زندہ حضرتوں اور حضرات کا اتناتذکرہ نہیں کرتے جتناکہ دنیاسے تشریف لے جا چکےان بزرگوں کا کرتے ہیں ۔ماضی قریب کے انہیں بہت سے بزرگوں میں ایک نمایاں نام جو شہرت و ناموری کے افق پہ آج بھی پوری شان و شوکت کے ساتھ جلوہ فرما ہے بلکہ جنہیں اللہ نے بعداز وفات زندگی سے زیادہ ناموری عطا فرمائی۔یقینا وہ نام جلالۃ العلم،استاذالاساتذہ علامہ شاہ عبد العزیز محدث مرادآبادی علیہ الرحمۃ والرضوان المعروف بہ حافظ ملت کا ہے۔جن کی زندگی کا ہر لمحہ اس روشن چراغ سے بھی زیادہ منور و تاباں ہے جن سے ہزاروں گم گشتگان راہ استفادہ کرتے ہیں۔جن کی زندگی کا ہر لمحہ سنت نبوی کا آئینہ دار ہے۔جن کا ہر قول حکمت سے لبریز اور ہر فعل اخلاص کے پاکیزہ جزبات و احساسات سےمعمور ہے۔جن کی ذات میں شخصیت سازی کا عنصر اس قدر کوٹ کوٹ کر بھرا تھا کہ آپ نے اپنی نگاہ کیمیا اثر سے نہ جانے کتنے خاک کے ذروں کو رشک مہتاب اور زینت گلستاں کر دیا ۔ اور اپنی زندگی میں ہی ایسے لعل و گہر پیدا فرمائے کہ جنہوں نے آپ کے بعد آپ کے مشن کو اس تیزی سے آگے بڑھایا کہ لوگ کہنے پہ مجبور ہوئے ” نہیں ہیں حافظ ملت مگر باقی ہے نام ان کا “۔مزید برآں الجامعۃ الاشرفیہ کی شکل میں قوم کو ایسا علمی قلعہ اور اثاثہ عطا فرما گئے جہاں کےفارغین آج بھی پوری دنیا میں مسلک اعلی حضرت کی خدمات مختلف انداز میں انجام دے رہے ہیں اور دیتے رہیں گے۔جو ابر یہاں سے اٹھا ہے وہ سارے جہاں پہ برسا ہے ،جو ابر یہاں سے اٹھے گا وہ سارے جہاں پہ برسے گا۔ان شاء اللہ
آمدم بر سر مطلب۔اس مضمون میں ان کی خدمات کا مکمل احاطہ مقصود نہیں، اور یہ کسی طرح ممکن بھی نہیں کہ اتنی کثیر الجہات شخصیت کا تعارف ایک مختصر سے مضمون میں کروا دیا جائے۔آج ہم صرف چند ان اقوال کا جائزہ لیں گےجو آپ نے مختلف مووقعوں پرارشاد فرمائے ۔نیزجاننے کی کوشش کریں گے کہ آپ کے اقوال دینی ،دنیوی اور معاشرتی اعتبار سے کتنے زیادہ معنی خیز ہیں؟ اور آپ کے ہر قول میں حکمت و دانائی کے کیسے کیسے انمول موتی پوشیدہ ہیں۔ اس اعتراف کے ساتھ کہ ہم جتنا بھی بیان کر دیں یقینا ان کی مراد کو نہیں پہونچ سکتے۔

jamia fatima tuz zohra
آپ کا مشہو ر زمانہ قول ہے ”اتفاق زندگی ہے اختلاف موت ہے“یہ بظاہر ہے ایک جملہ ہے لیکن فقط اس ایک جملہ کی مکمل تشریح و توضیح کی جائے تو دفتر درکار ہے ۔بظاہر چھوٹے سےاس ایک جملے میں زندگی کا اتنابڑا پیغام پوشیدہ ہے کہ اس پر عمل پیرا ہونا باعث فرحت و تقویت اوراس سےسرموانحراف بھی قعر مذلت میں جا گرنے کا باعث ہے۔اس ایک چھوٹے سے جملہ میں اتحاد و اختلاف کی ایسی خوبصورت تعبیر پیش کی گئی ہے کہ اگر اس کو سمجھا جائے تو زندگی جنت اور نہ سمجھا جائے تو پھر نصیب میں در در کی ٹھوکریں ہیں۔غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ محض ایک قول نہیں بلکہ اتحاد کی اہمیت پہ کی گئی گھنٹوں کی تقریروں کا نچوڑ اور اتحاد کی افادیت پر لکھی گئی کتابوں کا ایسا خلاصہ ہے جو ہر فرد بشر کو اتحاد و اتفاق کی اہمیت سے مکمل آگاہ کرتا ہے۔محض یہ ایک قول ہمیں ہر طرح کی عصبیت اور ان کے نتیجہ میں پیدا شدہ اختلاف سے اجتناب کا سبق دے رہا ہے اور یہ بتا رہا ہے کہ اتحاد زندگی ہے اختلاف موت ہے۔ہزار خانوں میں بٹ چکی امت مسلمہ کو اس قول کا ہر ہر لفظ اتحا د واتفاق کی دعوت دیکر اسے کئی جسم ایک جان ہونے کا پیغام دے رہا ہے۔فروعی اختلاف کی بنیاد پر ایک دوسرے کےرد میں صفحات کےصفحات سیاہ کئے جانے اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے سے یہ قول ہمیں سختی سےمنع کرتے ہوئے گویا یہ درس دے رہا ہے کہ بھول گئے؟اتحاد زندگی اختلاف موت ہے۔زبان درازی،طعنہ کشی،چھوٹی چھوٹی بات کو بنیاد کر مہینوں بلکہ برسوں تک ایک دوسرے سے دور رہنے والوں کوایسا لگتا ہے کہ آپ کا یہ قول سمجھا سمجھا کر کہ رہا ہے کہ اتحاد زندگی ہے اختلاف موت ہے ۔آپ کا یہ قول اپنے اندر اتنی وسعت رکھتا ہے کہ قوموں کے عروج و زوال ،ترقی و تنزلی،کامیابی و کامرانی میں یہ سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔آپ کا یہ قول ہمیں بتلا رہا ہے کہ زندگی مقررہ مدت تک دنیا میں رہ کر،اختلاف و انتشار کا شکار ہو کر ،غلط سمت اور غلط راہ میں توانائی کے خرچ کرنے کا نام نہیں ہے۔صاحبو!ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اتحاد کی تلوار میں وہ دھار ہوتی ہے جس کی بنیاد پر بڑے سے بڑا معرکہ سر کیا جاسکتا ہے جب کہ اختلاف کی عادی بڑی سے بڑی جماعت کو بھی بآسانی صفحہ ہستی سے مٹایا جا سکتا ہے۔
حضور حافظ ملت علیہ الرحمۃ کے صرف اس قول پر عمل کرنے کی اگر ہم ٹھان لیں تو مندرجہ ذیل چند فائدے تو بغیر کسی کوشش کے لا محالہ حاصل ہونے ہیں ۔ایک دوسرے کے رد میں کتاب نہیں لکھی جائے گی ۔مزید برآں مفت تقسیم نہیں کی جائے گی ۔جلسہ و جلوس ،میلاد وکانفرنس کے پلیٹ فارم سے کسی کےخلاف آواز نہیں اٹھائی جائے گی۔مشربی نوک جھونک جس نے بارہا دو دلوں میں کینہ پیدا کرکے خوشگوار تعلقات کا خاتمہ کیا ہے ہے اس کا بھی نام و نشان ختم ہوگا ۔صوبائی عصبیتِ بد کا خاتمہ ہوگا ۔اتحاد و اتفاق کی ایسی فضا قائم ہوگی جس میں لوگ با ہم ایسے شیر و شکر ہو کر رہیں گےکہ لفظ”اتحاد“ تو خوب فروغ پائے گا جبکہ بےچارہ ”اختلاف“کہیں کا نہ رہ کرمحض چند لوگوں میں سمٹ کر رہ جائےگا۔طعنہ زنی،فضول گوئی تو گویا دفن ہو جائے گی۔دو گز زمین کے لئے لڑائی ماضی کی داستان ہو جائے گی۔پھر بات بات پہ لڑائی نہیں ہو گی بلکہ لڑائی ہو جانے والی بات پہ بھی الفت و محبت کی نئی نئی مثال قائم ہو گی۔غیبت،چغل خوری تو یقینا ًمایوس ہو کر کسی پہاڑ کے کھوہ میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو گی۔اس لئے کہ غور کیجئے تو پتہ چلےگا کہ مذکورہ بالا تمام باتوں کا ثمرہ اختلاف کی صورت میں نمودار ہوتا ہےاوراگر ہمارا حافظ ملت کے اس قول پہ عمل ہے کہ ”اتحاد زندگی ہے اختلاف موت ہے“ تو یقینا ہم اختلاف کی صورت میں موت کو گلے لگانے کے بجائے اتحاد کی شکل میں زندگی کو گلے کا ہار بنانا پسند کریں گے۔
”زمین کے اوپر کام زمین کے نیچے آرام“:حافظ ملت علیہ الرحمۃ کے اس چھوٹے سے قول کا بہت بڑا مطلب یہ ہے کہ جب تک زندہ رہنا ہے کام سے جی نہیں چرانا ہے۔قوم و ملت کی فلاح و بہبود کے لئے لائحہ عمل نہ صرف تیار کرنا ہے بلکہ اس کو عملی شکل بھی دینا ہے۔جزبات میں آ کر ایک دن میں سو دن کا کام کر کے بقیہ زندگی بس یوں ہی نہیں گزار دینا ہے بلکہ جب تک زمین کے اوپر رہنا ہے کام کرتے جانا ہے۔کبھی رکنا نہیں ہے ،کبھی تھکنا نہیں ہے ،کبھی بد دل اور دل برداشتہ نہیں ہونا ہے ،کبھی خاطر کبیدہ ہو کر کسی مشن سے ،کسی مقصد سے پیچھے نہیں ہٹنا ہے بلکہ زمین کے اوپر جب تک رہنا ہے ہر اختلاف کو پس پشت ڈالتے ہوئے کام کرتے جانا ہے۔آپ کا یہ قول بڑی آسانی سےہمیں زندگی کےمقصد سے روشناس کراتا ہے اور مقصد سےبھٹک کر بےکار زندگی گزارنے والوں کو پیغام دیتا ہے کہ زمین کے اوپر کام زمین کے نیچے آرام۔ایسے سیکڑوں افراد جو آرام پسندی کے شکار ہو کر ،روز وشب عیش و مستی میں گزار تے ہوئےزندگی کے قیمتی لمحات ضائع کر رہے ہیں انہیں آپ کا یہ قول پکارپکار کہ رہا ہے” زمین کے اوپر کام زمین کے نیچے آرام“۔الغرض آپ کا یہ قول بےگاری کی زندگی گزارنے والے افراد کو کام پر ابھارتا ہےاورہرآرام پسند شخص کو آرام کےلئےصحیح جگہ کاپتہ بتاتا ہے۔آپ کا یہ قول جہاں نوع انساں کو کام کی ترغیب دیتا نظر آتا ہے وہیں یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ آرام کی جگہ دنیا نہیں بلکہ آرام تو زمین کے نیچے کرنا ہے۔نیز اگر غور کریں تو اسی قول میں یہ پیغام بھی پوشیدہ نظر آتا ہے کہ آرام زمین کے نیچے اسی کو کرنا ہے جس نے زمین کے اوپر کام کیا ہے۔ گویا آپ کا یہ قول ہمیں بار بار اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ یہ دنیا دار العمل ہے اگر ہم نے یہاں کی زندگی یوں ہی بغیر کسی عمل کے ضائع کر دی تو پھر بعد فنا آرام نہیں ۔ویسے بھی انگریزی زبان کا ایک مقولہ ہےکہ خالی دماغ شیطان کا گھر ہوتا ہے ۔یعنی طرح طرح کی فضول باتوں میں مشغول ہوتا ہے۔ پھرانسانی ذہن میں جو باتیں ہوتی ہیں اسی کو معاشرہ میں پھیلاتا بھی ہے جس کے نتیجہ میں طرح طرح کے اختلافات اور قسم قسم کی برائیاں جنم لیتی ہیں ۔اگر حافظ ملت کے اس قول کو عمل میں لایا جائے تو یقیناً انسانی ذہن سے خرافات کا خاتمہ ہوگا ۔ ہمارا مذہب مذہب اسلام بھی بےکاری کی زندگی کو پسند نہیں کرتا ۔ ویسے بھی انسان جسےاشرف المخلوقات کا تمغہ حاصل ہے اگر اس کی زندگی عمل سے خالی ہو تو اچھا نہیں لگتا۔
”احساس ذمہ داری سب سے قیمتی سرمایہ ہے“۔کیا خیال ہے آپ کا یہ صرف ایک جملہ ہے؟یا نصیحتوں کا ایسا مجموعہ ہے جس کی تفصیل کے لئے صفحات درکار ہیں۔غور کریں! ہمیں جب تک اپنی ذمہ داری کا احساس نہ ہو ہم کوئی کام حسن وخوبی کے ساتھ انجام نہیں دے سکتے۔خوب یاد رہےجسے اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہ ہو وہ صرف اپنا نقصان نہیں کرتا بلکہ اس کے ذمےجتنے کام ہوتے ہیں سب یا تو ٹھنڈے بستے میں پڑے رہتے ہیں یا پھر کام کی رفتار اتنی سست ہوتی ہے کہ کام کا ہونا نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے ۔ذمہ داری کے احساس کے ساتھ جس کام یا مشن کی شروعات ہوگی یقینا حسن و خوبی کے ساتھ پایہ تکمیل کو پہونچے گی۔ اور اگر معاملہ اس کے بر عکس ہو توانجام کیا ہوتا ہے آپ واقف ہیں۔اس معاشرہ کا ایک رونا یہ بھی تو ہےکہ ذمہ داروں کو احساس ذمہ داری نہیں۔
مکتب و مدرسہ ہویا کوئی جامعہ ،اسی طرح اسکول،کالج اور یونیورسیٹی ہو یا دنیا کا اور کوئی بڑا ادارہ ۔ اگر آج تک عروج پر ہے یا روز بروز عروج و ارتقا ءکی طرف رواں دواں ہے تو یقینا یہ کسی ذمہ دار کی روز و شب کی محنتوں کا نتیجہ ہے جس نے پوری ذمہ داری کے ساتھ اپنے فریضہ کو انجام دیا ہے ۔ذمہ داری کے ساتھ یہ جو احساس کا لاحقہ ہے وہ اتنا عظیم ہے کہ کسی ذمہ دار کو جب تک اس کا احساس نہ ہو کوئی بھی کام انجام کو نہیں پہونچتا۔معاملات درہم برہم ہو جاتے ہیں۔سارا کا سارا نظام بگڑجا تا ہے۔آپ کا یہ قول ہمیں اپنے ان بزرگوں کی بھی یاد دلاتا ہے کہ جب ان کے کاندھوں پر ذمہ داری کا بوجھ ڈالا گیا تو انہوں نے اس حسن وخوبی کے ساتھ اس کو نبھایا کہ بس اس کی مثال دی جا سکتی ہے بطور مثال کسی کو پیش نہیں کیا جا سکتا ۔حضرت عمر کا یہ قول کہ اگر فرات کے کنارے بکری کا ایک بچہ بھی پیاسا مر گیا تو عمر سے باز پرس ہو گی۔صاحبو! یہ کیا ہے ؟یہی احساس ذمہ داری ہے جو ہمارے بزرگوں کا وطیرہ ہے۔ جس کی جانب ایک اللہ کا ولی اپنے قول سے ہماری توجہ مبذول کرا رہا ہے ۔احساس ذمہ داری کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کے پاس فضول کاموں کے لئے وقت نہیں رہ جاتا ۔ پھر دوستوں کی صحبت میں اس کا گھنٹوں ضائع نہیں ہوتا ۔اس لئے کہ جب اسے احساس ہے تو یقینا یہی احساس اسے بہت سے فضول کاموں اور فضول باتوں سے روکتے ہوئے اس کی توجہ کو مقصد پہ مرکوز رکھے گا۔یہ احساس ذمہ داری جس میں جتنی زیادہ ہوگی وہ اتنا زیادہ مفید اور کار آمد ہوگا ۔یقینا معاشرہ کے ہر طبقہ میں ایسے ہی احساس ذمہ داری والے افراد انقلاب برپا کرتے ہیں۔معلم سے لیکر متعلم تک سب کی اپنی اپنی ذمہ داریاں ہیں جن کا احساس دونوں طبقہ میں ہونا لازمی ہے وگرنہ نقصان یقینی ہے۔ ہاں اس میں یہ فرق کیا جا سکتا ہے کہ طالب علم غیر ذمہ دار ہو تو فقط اس کا نقصان ہے جب کہ اساتذہ کی غیر ذمہ داری پوری جماعت کے نقصان کا باعث ہوگی ۔یوں ہی انسان جس معاشرہ کا فرد ہے یقینا اس معاشرہ میں مختلف اوقات میں اس کے ذمے مختلف ذمہ داریاں ہوتی ہیں،جن کی ادائیگی بہر حال لازم ہے وگرنہ نقصان یقینی ہے۔مثلا والدین کی اپنی ذمہ داریاں ہیں ،اولاد کی الگ ذمہ داریاں ہیں۔ اسی طرح گھر کے دیگر افرادکی اپنی اپنی الگ الگ ذمہ داریاں ہیں ۔تو اگر والدین لا پرواہی سے کام لیں بلفظ دیگر اگر ان میں ذمہ داری کا احساس نہ ہو تو ظاہر ہے بچےکی پرورش، اس کی ساخت و پرداخت میں واضح فرق آ ئے گا ۔یوں ہی اگر والدین کے ساتھ بچوں کا سلوک اچھا نہ ہو ،وہ اپنی ذمہ داریاں بھلا بیٹھیں تو پھر والدین کو تکلیف ہوگی۔اسی طرح اگر زوجین بھی اپنی اپنی ذمہ داریوں سے لا پرواہی برتیں تو اس کا لازمی اثریہ ہوگا کہ دو خاندانوں پر اس کے برے اثرات مرتب ہوں گےاور دو ہنستی کھیلتی زندگی تباہی کے دہانے پر پہونچ جائے گی۔ اور اگر اثر نے اپنا مزید اثر دکھایا تو پھر تو کئی زندگیاں برباد ہوتی نظر آئیں گی۔الغرض احساس ذمہ داری اتنی بڑی نعمت ہے کہ جنہیں یہ حاصل ہے یقینا وہ خود بھی کامیاب ہیں اور دیگر افراد کو بھی کامیابیوں کی منزلوں سے ہمکنار کر رہے ہیں ۔
”قابل قدر وہ نہیں جو عمدہ لباس میں ملبوس ہو اور علم وادب سے بے بہرہ بلکہ لائق تعظیم وہ ہےجس کا لباس خستہ ہو اور سینہ علم سے معمور “ آپ کے اس قول میں تردید و تثبیت کے کئی پہلو ہیں۔غور کریں اس قول میں علم کے حصول کی ترغیب بھی ہے اور سادگی اختیار کرنے کا مشورہ بھی۔صرف عمدہ عمدہ لباس پہننے والوں کی دل شکنی بھی اور لباس کی بنیاد پر تعظیم بجا لانے والوں کے لئے ایک عمدہ نصیحت بھی۔آپ نے بڑی سادگی اور بڑے آسان لفظوں میں یہ بیان فرما دیاکہ عظمت و رفعت لباس فاخرانہ سےنہیں بلکہ علم کے حصول سے ملتی ہے اگرچہ لباس پرانا یا بوسیدہ ہی کیوں نہ ہو۔ اور ساتھ ہی آپ نے یہ بھی بڑے صاف لفظوں میں واضح فرما دیا ہے کہ علم و ادب سے خالی شخص کو محض اس کا لباس عزت و وقار نہیں دلا سکتا ہے۔آپ کا یہ قول حضرت علی کے اِس قول کی یاد دلاتا ہے۔”لَیسَ الجَمالُ بِاَثوابٍ تُزَیِّنُناانَّ الجَمالَ جَمالُ العِلمِ وَالاَدَب لَیسَ الیَتیمُ الَّذی قَد ماتَ وَالدُہ بَلَ الیَتیم یَتیمُ العِلمِ وَالاَدب“۔اصل خوبصورتی ان کپڑوں سے نہیں حاصل ہوتی جو ہمیں زینت بخشتی ہیں۔اصل خوبصورتی تو علم و ادب کی خوبصورتی ہے۔یتیم وہ نہیں ہے جس کے والد کا انتقال ہو گیا ہو بلکہ یتیم وہ ہے جو علم و ادب سے محروم ہو ۔ آپ کا یہ قول ان بہت سے احکام قرآنیہ و فرامین رسول کی عکاس ہے جن میں علم کے حصول پر ابھارا گیا ہے اور اہل علم کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔
”دین کے لئے گردن کٹانے کی ضرورت پڑے تو کٹا دینی چاہئےمگر پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے“۔آپ کے اس قول میں ہزاروں صحابہ،تابعین،تبع تابعین و دیگر کشتگان عشق رسول کے عمل کی قولی تصویر پیش کی گئی ہے اور اس بات کا پیغام دیا گیا ہے کہ ہمیں بھی ان کے طریقہ پہ عمل کرتے ہوئے اپنے اندر اس قدر دینی جزبہ پیدا کرنا چاہئے کہ دین کے لئے جان بھی دینا پڑے تو مسکراتے ہوئے دے دی جائے۔اس ایک جملہ میں ان ہزاروں ،لاکھوں عاشقان رسول کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے جنہوں نے راہ خدا میں جان دی ہے۔ دین کو پس پشت ڈال کر دنیا داری میں مشغول ہو چکےلاکھوں افراد کے لئے یاد دہانی بھی ہے کہ دین کی وہ اہمیت ہے کہ اس کے لئے صرف مال واسباب اور جائیداد کی قربانی کافی نہیں بلکہ اس کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانا بھی پڑے تو لگا دینی چاہئے۔یہ ایک جملہ ان ہزار وں شہیدان راہ محبت کی یا د دلاتا ہے جنہوں نے مختلف غزوات میں اس شعر کو عملی جامہ پہنایا کہ
جو جان مانگو تو جان دیں گے جو مال مانگو تو مال دیں گے
مگر یہ ہم سے کبھی نہ ہوگا نبی کا جاہ و جلال دیں گے

jamia fatima tuz zohra
یہ ایک جملہ ان ہزاروں افراد کے لئے ایک خاموش پیغام ہے جو تھوڑی سی زمین ،جائیداد کے لئے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جاتے ہیں اور دنیاوی عزت و ووقار اور جاہ و جلال کے لئے اس قدر بدلے پہ اتارو ہو جاتے ہیں کہ خونی رشتوں کا بھی احترام بھول جاتے ہیں۔آپ کا یہ قول گویا انہیں یاد دلا رہا ہے کہ دنیا کی وہ اہمیت نہیں کہ اس کے لئے گردن کٹائی جائے یا کاٹی جائے۔
ایسے دور میں جب کہ اکثر افراد نے دین کو پس پشت ڈال کر دنیا کو ہی اپنا سب کچھ بنا رکھا ہے ۔دینی خدمات کا جزبہ ناپید ہے اس کی تبلیغ و اشاعت کی فکر مفقود ہےآپ کا یہ قول اکسیر ہے۔ غور کریں تو اس ایک جملہ میں ہزاروں صحابہ و بزرگان دین کے قلبی احساسات کی تصویر پیش کی گئی ہے اور ان کے عمل کی قولی تصویر پیش کر کے یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ صحابہ و بزرگان دین ایسے ہوا کرتے تھے کہ
تجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھے
تیغ کیا چیز ہے وہ توپ سے لڑ جاتے تھے

jamia fatima tuz zohra
لہذاہمیں بھی ان کی اتباع میں ایسا ہی کرنا چاہئے۔صاحبو!ہمارے ملک عزیز ہندوستان کے جو حالات گزشتہ کچھ سالوں میں رہے ہیں ،اور جن ناپاک ارادوں کو دشمنوں نے محبت کا جامہ پہنا کر انجام دینے کی کوشش کی ہے وہ لمحہ فکریہ ہے۔لیکن اگر ہمارا اس قول پہ عمل ہے تو یقینا ًہم طرح سے دین کی حفاظت کرنے میں کامیاب ہوں گے اور دشمن کا ہر ارادہ ناکام اور ہر منصوبہ فیل ہوگا ۔
زندگی وہ ہے جو کسی دوسرے کے کام آ سکے:ایسا معاشرہ جہاں بے رغبتی افان پر ہے،لا تعلقی شباب پر ہے،ایک دوسرے سے رسم وراہ تقریبا ختم ہے،خود غرضی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے،جہاں گرے پڑوں اور محتاجوں کا کوئی پرسان حال نہیں ۔جس معاشرہ میں بے توجہی کی نئی نئی جہتیں متعارف ہو رہی ہیں اور جس معاشرہ کا انسان اتناخود غرض ہو چکا ہے کہ اسے صرف اپنے ساتھ پیش آمدہ مسائل کی فکر ہے اور وہ اسے ہی دور کرنے کی تگ و دو میں لگا ہوا ہے۔جو بس اپنے آپ کو صحت مند اور محفوظ دیکھنا چاہتا ہے باقی ساری دنیا بیمار یا ہلاک ہو جائے اسے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔لا تعلقی اور بے اعتنائی کے اس دور میں یقینا آپ کا یہ قول اخوت ومحبت کے جزبات سے لبریز ،الفت و عقیدت کا سر چشمہ ہے۔
دوسرے کے کام آنا یقینا یہی زندگی کا راز ہے ۔”واللہ فی عون العبد ما کان العبد فی عون اخیہ“ کا مفہوم پیش کرتا ہوا یہ جملہ یقینا اصل زندگی کا احساس دلاتا ہے۔حضور ﷺ پر جب غارحرا میں پہلی وحی نازل ہوئی آپ حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنھا کے پاس تشریف لائے اور آپ نے فرمایا”لقد خشیت علی نفسی“ تو حضرت خدیجہ نے ان سے کہا ”قالت لہ خدیجۃ کلا ابشرفواللہ لا یخزیک اللہ ابداواللہ انک لتصل الرحم و تصدق الحدیث و تحمل الکل و تکسب المعدوم و تقری الضیف و تعین علی نوائب الحق“۔غور کریں تو واضح ہوگا یہ جتنی صفتیں حضرت خدیجہ نے حضور ﷺ کی بتائی ہے سب میں دوسروں کے کام آنے کا مفہوم نمایا ں ہے۔انصار و مہاجرین کے اخوت کی یاد دلاتا یہ جملہ یقینا ًہم خود غرض انسانوں کو اصل زندگی کا سبق پڑھاتے ہوئےیہ پیغام دے رہا ہے کہ جس زندگی کو ہم اصل زندگی سمجھ کر جیے جا رہے ہیں وہ اصل زندگی نہیں بلکہ اصل زندگی وہ ہے جو کسی دوسرے کے کام آ سکے۔

jamia fatima tuz zohra
محترمہ مدیحہ جبیں سیالکوٹ ماہنامہ عبقری میں لکھتی ہیں ۔”جب آپ اپنے جیسے انسانوں کے کام آتے ہیں تو اس سے اپنے آپ کے وجود کےمفید ہونے کااحساس ہوتا ہے دوسروں کے کام آنا ،ان کی مدد کرنا ، یا ان کے کسی مسئلے کو حل کرنے میں تعاون کرنا اخلاقی تقاضا ہے۔لہذا دوسروں کے کام آنے کو ایک اخلاقی اصول قرار دیا جاتا ہے۔اس کی تلقین کی جاتی ہے اور دوسروں کے کام آنے والوں کی عزت کی جاتی ہے ۔دوسروں کے کام آنے کی تلقین دنیا کے ہر اخلاقی ضابطہ میں موجود ہے۔اس لحاظ سے آپ اس کو ایک عالمگیر اخلاقی اصول قرار دے سکتے ہیں ۔خیر،اس کا ایک اور رخ بھی ہے۔جب آپ دوسروں کے کام آتے ہیں تو آپ دوسروں کی مدد کرنے کے اخلاقی اصول پر ہی عمل نہیں کرتے اور صرف دوسرے لوگوں کی بھلائی کا سبب نہیں بنتے ،بلکہ آپ اپنی بھلائی کا باعث بھی بنتے ہیں ۔کیوں ؟ اس لئے کہ جب آپ اپنے جیسے انسانوں کے کام آتے ہیں تو اس سے آپ کو اپنے وجود کے مفید ہونے کا احساس ہوتا ہے۔آپ محسوس کرتے ہیں آپ اہم وجود ہیں ۔یہ احساس بہت بڑی نفسیاتی قوت ہے۔یعنی ایسی نفسیاتی قوت جو آپ کے طرز فکر اور طرز عمل دونوں کو بدل دیتا ہے۔دکھ کے تجربہ میں گزرتے ہوئے جب آپ دوسروں کا خیال کرتےہیں ان کے مصائب کو سمجھتے ہیں اور ان کی مدد کرنے کے لئے ہاتھ آگے بڑھاتے ہیں تو آپ کو اپنی ذات کے خول سے باہر نکلنے کا موقع ملتا ہے ۔آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ زندگی صرف اپنے لئے نہیں ہوتی۔دوسروں کا بھی آپ پر حق ہے۔یہ احساس آپ کی ذات،شخصیت اور شعور کو وسعت عطا کرتا ہے۔آپ انا کی قید سے آزادی پا لیتے ہیں خود غرضی کی حد پار کر لیتے ہیں اس طرح اپنے دکھ کو وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی اہلیت حاصل ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ہی ذاتی دکھ کی شدت ختم ہوجاتی ہے۔دوسروں کی طرح اپناخیال رکھنا بھی معمول کی طرف واپس آنے میں مدد دیتا ہے “۔
بقیہ اقوال کی تشریح بھی موجود ہے ان شاء اللہ کتابی شکل میں مستقبل قریب میں شائع کرنے کا ارادہ ہے۔

Share
Share