




نام و نسب:
محمد حسین صدیقی رضوی ( معروف و مشہور نام ابو الحقانی ) ابن شیخ عبد الجلیل ابن شیخ کریم بخش ابن شیخ ہمت میاں ابن تا جد میاں ۔
جائے ولادت :
مقام و پوسٹ لو کہاضلع مدھوبنی ، بہار
تاریخ پیدائش
۱۹۵۶ / ۱۲ / ۰۰۲
ابتدائی تعلیم : مدرس تنظيم المسلمين لو کہا،الجامعۃ الحنفيۃ الغوشیہ، جنکپور، نیپال اور چھ ماہ بریلی شریف میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور اعلی تعلیم کے لئے الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور میں داخلہ لیا۔ چار سال تک حافظ ملت علیۃالرحمہ اور دیگر اساتذہ کے سامنے زانوئے ادب تہ کیا اور وہیں سے سند و دستار فضیلت سے سرفراز ہوئے مخصوص اساتذہ کے نام : جلالتہ العلم حافظ ملت علامہ عبد العزیز محدث مراد آبادی علیہ الرحمۃ والرضوان ، حضرت مولانازبیر احمد صاحب ، لو کہا مدھوبنی ، شیر نیپال حضرت علامہ جیش محمد صدیقی علیہ الرحمۃ ، خانقاہ بر کا ت لہنہ شرایف نیپال حضورمحدث کبیر حضرت علامہ ضیاء المصطفی صاحب قبلہ، بحر العلوم حضرت علامہ مولانا مفتی عبدالمنان علیہ الرحمہ، صدرالعلماء حضرت علامہ مولانا حسین رضا خان علیہ الرحمہ محدث جلیل حضرت علامہ مولانا عبد الشکور علیہ الرحمہ
تدريسی خدمات: فراغت کے بعد ایک سال آپ نے الجامعہ الحفیہ جنکپور، نیپال میں طالبان علوم نبویہ کی علمی پیاس بجھائی اور بعد ازاں مدرسہ فیض الغربا آرا میں چھ سال تک زینت مسند تدریس رہے اور بخاری شریف تک کا درس دیتے رہے۔
تعمیری و تنظیمی خدمات:
دارالعلوم رضائے مصطفی لو کہا بازار، جامعہ فاطمتہ الزہراء دونار چوک در بھنگہ۔
آر ایس میموریل ہاسپٹل، دربھنگہ ،رضا جامع مسجد لو کہا بازار – نوری جامع مسجد سا ہر گھاٹ، مدھوبنی ۔
بیعت و خلافت : آپ مفتی اعظم مر شد اعظم شبیہ غوث اعظم مصطفی رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان کےمرید ہیں ۔ جب کہ آپ کو شیخ فضل الرحمن ابن ضیاء الدین مہاجرمدنی علیہ الرحمہ، تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان از ہری علیہ الرحمہ بریلی شریف، علامہ تحسین رضا خان علیہ الرحمہ بریلی شریف مفتی اعظم نیپال علامہ جیش محمد صدیقی شیر نیپال لہند شریف ، مفتی رجب علی نانپارہ ، علامہ سید شاہ قائم قتیل دانا پوری ، علامہ ریحان رضا خاں رحمانی میاں، شیر بہارمفتی اسلم رضوی جامعہ قادریہ مقصود پورمظفر پور، علامہ مفتی ایوب صاحب مراد آباد، مولانا بشیر برکاتی صاحب علیہم الرحمۃ وغیر ہم سے تمام سلاسل کی اجازت و خلافت حاصل تھی۔
تصنیف و تالیف: آپ کی مختلف تصنیفات کے نام یہ ہیں ۔ ضیائے حدیث ، حق کی تلوار، خطبات ابوالحقانی، حاضر و ناظر ۔جنتی کون، دینے والا ہے سچا ہمارا نبی ، صدقات، زیارات، غزوات ، اربعین حقانی ۔ اللہ ورسولہ اعلم ، فداک ابی و امی، والذی نفیسی بیدہ
وفات : ۱۲ ستمبر ۲۰۲۰ مطابق ۲۳ محرم الحرام ۱۳۴۲ھ بروز سنیچر بوقت ۸ بجگر ۴۵ منٹ ، شب