فروغ اہلسنّت کیلئے امام اہلسنّت کا دس نکاتی پروگرام۔افادیت،حقائق، تبصرے

فروغ اہلسنّت کیلئے امام اہلسنّت کا دس نکاتی پروگرام۔افادیت،حقائق، تبصرے

مولانا محمد تحسین رضا مصباحی

اعلی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان  کی زندگی کا مختصر تذکرہ یہ ہے کہ بچپنے سےلیکر جوانی،جوانی سے لیکر پیرانہ سالی اورپھر انتقال تک آپ کی ذات  با برکات  ہر لحاظ سے ستودہ صفات ہے ۔صبح و مسا، دن اور رات آپ نے تبلیغ دین و  سنت ،اشاعت سنیت اور رد بد مذہبیت میں گزاری۔نابغہ عصر،یکتائے روزگار،فرید الدہر،اور ان جیسے جتنے القابات ہیں حقیقت یہ ہےکہ آپ کی کثیر الجہات شخصیت  کے تعارف کے لئے ناکا فی ہے۔یقینا آپ کی ذات ان القابات سے بھی برتر و بالا ،ارفع و اعلی تھی اور ہے۔ہزاروں حضرت آئے اور چلے گئے لیکن اعلی حضرت آج بھی آپ ہیں۔ جس فن  کو آپ نے اختیار فرمایا ،اس فن کی شان کو دو بالا کر دیااوراس فن پہ ایسا کافی، شافی، وافی، لکھا کہ آپ کے بعد اگر اس فن پہ کچھ نہ بھی لکھا جاتا تو کافی ہوتا۔مختصر سی زندگی میں آپ کے جو کارنامے ہیں وہ کسی انجمن تحریک اور جماعت کے نصیب میں  نہیں۔جس فن میں آپ نے جو لکھ دیا  وہ حرف آخر ثابت ہوا ۔بعد والوں نے اگر اس  فن میں  کچھ لکھا بھی تو  رہنمائی  آپ کی تحریر سے ہی لی۔آپ کے انتقال کو  سو سال ہو چکے ہیں لیکن جس طرح آپ کی ذات،آپ کی تعلیمات کا چرچہ آج بھی زباں زد عام و خاص ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ واقعی آپ حضور علیہ السلام کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہیں ۔

ایک عالم دین جن کا نام سلمان رضا ہے، تعلق پاکستان سے ہے ۔انہوں نے جس خوبصورتی سے اعلی حضرت کا تعارف محض چند سطروں میں کروا دیا ہے۔ واقعی کہا جا سکتا ہے کہ کوزہ میں فقط سمندر نہیں سات سمندر کو  سمونے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔آپ بھی ملاحظہ فرمائیں

امام عاشقاں، محقق دوراں، علامہ زماں، فخر العیاں، کثیر الاحساں، معتمد عالماں ،معلم فقیہاں،تاج العلما، تاج الحکما، سراج الفقہا، صاحب فہم و ذکا، امام المشائخ والفقہا،بقیۃ السلف،عمدۃ الخلف،تاج الفحول،کشتہ عشق رسول،جامع المعقول والمنقول،محب اولاد بتول،فاضل جلیل،عالم نبیل،محدث عدیل،شمشیر بے نیام،رہنمائے ہر خاص وعام،سید العلماء والاعلام،قدوۃ السالکین،زبدۃ العارفین،حجۃ السالکین،سند المحدثین،سلطان العاشقین،علم وحکمت کے بحر بیکراں،امام اعظم کے تدبر کے نشاں،اعلی حضرت ،عظیم البرکت،عظیم المرتبت،کنز الکرامت ،جبل استقامت،صاحب رشد وہدایت،مخزن علم و حکمت،وارث تاج مجددیت،مجدد ماۃ سابقہ،موید ملت طاہرہ،صاحب حجۃ قاہرۃ، مطلع انوار رحمانی،منبع اسررا صمدانی،کاشف رموز پنہانی،فانوس نور حقانی،نائب غوث جیلانی،جانشین امام ربانی،حق و صداقت کی نشانی،الحافظ العالم الفاضل،المحدث ،المفسر، المحقق ،المدقق، المفکر، المورخ، الشاہ،امام احمد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ نور اللہ مرقدہ ۔

چونکہ مقصد ان کا تعارف نہیں ،اس لئے  اس اختصار پہ اکتفا کرتے ہوئے  ان نکات کی طرف چلیں جو ہمارا موضوع سخن ہے۔جن نکات پہ ہمیں کئی اعتبار سے گفتگو کی سعادت حاصل کرنی ہے۔

مضمون پڑھنا شروع کریں اس سے پہلے یہ ذہن نشیں کر لیں  اس میں جو بھی بات آپ پائیں گے ۔ان تمام کا مقصدمحض یہ ہے کہ ان باتوں کی جانب ہماری،آپ کی توجہ مبذول ہو۔اس لئےذات کا مسئلہ نہ بناکر اسےصلائے عام سمجھا جائے۔اور اگر صحیح بات کی جانب توجہ دلا ئی گئی ہے،تو  اُسی بات پہ توجہ دیں جو آپ کی توجہ کا مستحق اور حقدار ہے۔فروغ اہل سنت کے لئے امام اہل سنت نے جو نکات عطا فرمائے ہیں پہلے ان  پہ ایک نظر فرمائیں۔

(۱)             عظیم الشان مدارس کھولے جائیں۔ باقاعدہ تعلیمیں ہوں۔

(۲)           طلبہ کو وظائف ملیں کہ خواہی نہ خواہی گرویدہ ہوں۔

(۳)         مدرسین کی بیش قرار تنخوا ہیں ان کی کاروائیوں پردی جائیں۔

(۴)          طبائع طلبہ کی جانچ ہو،جو جس کام کے زیادہ مناسب دیکھا جائے۔معقول وظیفہ دیکر اس میں لگایا جائے

(۵)          ان میں جو تیار ہوتے جائیں تنخواہیں دیکر ملک میں پھیلائے جائیں کہ تحریر وتقریر اور وعظ ومناظرہ اشاعت دین ومذہب کریں۔

(۶)           حمایت مذہب ورد بدمذہباں میں مفید کتب ورسائل مصنفوں کو نذرانے دیکر تصنیف کرائے جائیں۔

(۷)         تصنیف شدہ اور نو تصنیف رسائل عمدہ اور خوشخط چھاپ کر ملک میں مفت تقسیم کئے جائیں۔

(۸)         شہروں شہروں آپ کے سفیر نگراں رہیں جہاں جس قسم کے واعظ یامناظر یا تصنیف کی  حاجت ہو آپ کو اطلاع دیں، آپ کو سرکوبی اعداء کیلئے اپنی فوجیں،میگزین، اور رسالے بھیجتے رہیں۔

(۹)           جو ہم میں قابل کارموجود اور اپنی معاش میں مشغول ہیں وظائف مقرر کرکے فارغ البال بنائے جائیں اور جس کام میں انہیں مہارت ہولگائے جائیں۔

(۱۰)        آپ کے مذہبی اخبار شائع ہوں اور وقتاً فوقتاً ہر قسم کے حمایت مذہب میں مضامین تمام ملک میں بقیمت وبلا قیمت روزانہ یا کم سے کم ہفتہ وار پہنچاتے رہیں۔ 

حدیث کا ارشاد ہے کہ! آخر زمانہ میں دین کاکام بھی درہم ودینار سے چلے گا‘‘ 

اور کیوں نہ صادق ہو کہ صادق ومصدق ﷺ کاکلام ہے۔(فتاویٰ رضویہ،جلد۱۲،صفحہ۱۳۳)

jamia fatima tuz zohra

یہ امام اہل سنت اعلی حضرت عظیم البرکت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ کے عطا کردہ نکات ہیں جو انہوں نے فروغ اہل سنت کے لئے عطا فرمائے ہیں ۔ان نکات  پہ  کس حد تک ہمارا  عمل  ہے؟ اس  بارے میں ہمارے دیگر علمائے اہل سنت کی کیا رائے عالی ہے؟اس کی  ہمیں خبر نہیں ۔مگر حقیر کی ذاتی  اور ادنی رائے یہ ہے کہ  ہم نے ان نکات کو سرے سے خارج کر دیا ہے۔ ان پر اثر کراماتی نکات کی ہمارے تبلیغی مشن(شاید اس طرح کا ہمارا کوئی مشن بھی نہیں) میں تھوڑی سی بھی جگہ نہیں۔اےکاش !ہم نےان نکات کواپنایا ہوتا،اس پہ عمل پیراہوئےہوتے، تو آج ملت   جس خستہ حالی کی شکار ہے کم سے کم اس کا شکار تو ہرگز نہیں ہوتی۔آپ کے ارشاد فرمودہ نکات میں غور کرنےکےبعد یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہےکہ ان نکات کو عمل میں لانا  تبلیغ دین و سنت کا ایک بہترین اور موثر ذریعہ ثابت ہوگا۔آپ کے عطا کردہ نکات کی اہمیت و افادیت مجھ ساہیچ مداں مولوی کیا بیان کر سکے گا۔چند سطر اس یقین و اعتراف کےساتھ پیش خدمت ہے کہ جو کچھ آپ کے نظر نواز ہوگا وہ  محض ایک طالب علم کی بساط کے مطابق  چندٹوٹے پھوٹے الفاظ   ہوں گے۔اسی موضوع پہ جب ہمارے بڑوں کا قلم اٹھے گا تواس کی افادیت کے کئی اور ایسے پہلو بھی اجاگر ہوں گے جن تک ہم جیسوں کے ذہن کی رسائی نہیں۔البتہ اتنا عرض ہےکہ اعلی حضرت جیسے عالم ربانی اور عاشق رسول ﷺ صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔وہ جو نقوش طے کر جاتے ہیں  وہ اہل اسلام کے لئے ہر طور پہ مفید ہوتے ہیں۔امام اہل سنت  محدث بریلوی علیہ الرحمۃ نے قوم و ملت کی فلاح وبہبود کے لئے جن نکات کی نشان دہی فرمائی تھی، اس کے آدھے حصہ پر بھی ، آدھے ادھورے خلوص کے ساتھ عمل ہو جاتا تو آج پوری مذہبی دنیا کا نقشہ ہی الگ ہوتا۔ البتہ ہم جن کو دشمن کہتے ہیں ان  کا ان نکات پہ  بھرپورعمل ہے،اور نہایت چالاکی سے اپنے تربیت یافتہ افراد کو اہل سنت کے لباس میں  قریہ قریہ بھیجتےرہے۔جنہوں نے کسی بھی موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا   اوراہل سنت کو اتنے خیمے میں تقسیم کیا  جس کا  شمار مشکل ہے۔ عقیدہ وعمل میں پر خلوص اتحاد ہونے کے بعد بھی  قیاسی اور فروعی مسائل کو اصل اسلام بنا کر  جس طرح مذہب و ملت کی تضحیک  اور تنفر کی آگ جلائی گئی ہے،سلاسل کے اختلاف کو بنیاد بنا کر، مشربی اختلافات کی آڑ میں،جتنی نازیباحرکتیں ماضی قریب میں کی گئیں ہیں ماضی بعید تک اس کی کوئی مثال شاید ہی مل پائے۔البتہ اس طرح کی کشمکش یہود و نصاری کی تفرقہ بازی کی تاریخ میں نظر آ جاتی ہے ۔خیر آئیے پہلے ان نکات کی افادیت پہ مختصر گفتگو  کر لیں  پھر اس کے بعد یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ ہم نے ان نکات کا کیا حشر کیا اور زندگی بھر طرح طرح سے اعلی حضرت کی ذات پہ کیچڑ اچھالنے والوں، یعنی وہابیہ ،دیابنہ و دیگر فرق باطلہ نے  کس طرح ان نکات پہ عمل کر کے اپنے مذاہب باطلہ کی خوب اشاعت کی ۔

حسبِ بساط بیانِ افادیتِ نکات

jamia fatima tuz zohra

پہلا نکتہ آپ نے ارشاد فرمایا:”    عظیم الشان مدرسے کھولے جائیں ،با قاعدہ تعلیمیں ہوں“۔غور کیجئے! اگراس نکتہ پہ کما حقہ عمل ہو جائے۔ جگہ جگہ عظیم الشان مدرسے کھل جائیں۔ اور ظاہر ہے مدرسہ عظیم الشان  محض اپنی عالی شان عمارت کی وجہ سے تو نہیں ہوگا، بلکہ اپنی تعلیم و تربیت کی بنا پر  عظیم الشان ہوگا۔ تو اگر اس طرح کے مدرسے کھل جائیں ،با قاعدہ تعلیمیں ہوں تو    کیا سنیت اسی کسمپرسی کی حالت میں رہ جائے گی؟مزید آپ نے فرمایا: ”طلبہ کو وظائف ملیں کہ خواہی نہ خواہی گرویدہ ہوں“   قسمت سے اگر اس کا چلن ہمارےمدرسوں  اور جامعات میں عام ہو جائے اور اللہ کی رحمت سےاس  وظیفہ کا کہیں سےانتظام  بھی ہو جایا کرے جو مشکل بھی نہیں۔تو  پھر کیا یہ سننے کو ہمارے کان ترس نہیں جائیں گے کہ فلاں نے غربت کی وجہ سے  بیچ میں ہی تعلیم منقطع کر دی ۔پھر توایسا ہوگا کہ مالی مجبوریوں کی وجہ سےکوئی ثالثہ کوئی رابعہ میں پڑھائی چھوڑ کر جانے والا نہیں ملے گا (جب ازہر ہند الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور میں زیر تعلیم تھا۔تو کئی ایسے ذہین بچے بیچ میں پڑھائی چھوڑ کر چلے گئے جو مکمل کرتے تو علم کے آفتاب و ماہتاب بن کر دنیا کو روشن کرتے۔مگر افسوس کہ وہ مکمل نہ کر سکے۔جب کہ مادر علمی طالب علموں کے قیام و طعام کا انتظام تو اپنے ذمہ رکھتا ہی ہے، کتابیں بھی معمولی سےمعمولی فیس پہ سال بھر کے لئے دستیاب کراتا ہے)۔ مگر پھر بھی غربت  کے مارے وہ ذہین بچے پڑھائی بیچ میں چھوڑنے کو مجبور ہوتے ہیں اس لئے کہ  روز مرہ کی ضروریات کے لئے  جتنےپیسوں کی ضرورت ہوتی ہےوہ بھی ان کے گھر والوں سے انتظام نہیں ہو پاتے۔لہذاوہ مجبوراً  بیچ میں پڑھائی چھوڑ کر مالی مسائل کے حل میں لگ جاتے ہیں۔(اللہ رب العزت بطفیل نبئ رحمت،  ہر ادارہ اہل سنت کو خوب خوب ترقی عطا فرمائے ، حاسدین کے حسد سے محفوظ و مامون فرمائے)لہذا اگر ان جیسوں کے لئے معقول وظیفہ کا انتظام ہو جائے توغربت کی بنیاد پہ تعلیمی سلسلہ درمیان میں منقطع کرنے والوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو ملےگا۔تعلیم مکمل کرنے والوں کی تعداد میں کثرت اور منقطع کرنےوالوں کی تعداد میں یقینا کافی حد تک قلت دیکھنے کو ملے گی۔ ”مدرسین کی بیش قرار تنخوا ہیں ان کی کاروائیوں پردی جائیں“۔ اگر مدرسوں کو تنخواہیں ان کی کاروائیوں پر دی جانے لگیں تو پھر  مالی مسائل سے بے فکر ہو کر جب ہمارے علما درسگاہوں کی زینت بنیں گےتو یقینا اس  وقت جو تعلیم ہوگی، اس کی صورت، حالیہ تعلیمی شکل وصورت سے بدلی ہوئی ہوگی۔ ہمارے علماءکےمعاشی مسائل تو کم ہوں گے ہی  سب سے بڑی بات یہ ہوگی کہ آج ایک جماعت نے  اس بنیاد پر اپنے بچوں کو اسلامی تعلیم  دینےسے چشم پوشی کر رکھی ہے کہ دس  بارہ سال پڑھنے کے بعد بھی تنخواہ ۵ ہزار ملتی ہے،اس سے کیا ہونا جانا ہے۔تو اگر تنخواہیں اچھی ملنے لگیں گی تو  اس طرح کی بات کرنے والوں کی زبان  بھی بند ہوگی، علماء خوش حال بھی ہوں گےاورمعاشرہ میں ایسی بہار آئے گی کہ ہر گھر میں مولوی اور ہر محلہ میں مفتیوں کی جماعت نظر آئے گی ۔ طبائع طلبہ کی جانچ ہو،جو جس کام کے زیادہ مناسب دیکھا جائے۔معقول وظیفہ دیکر اس میں لگایا جائے ۔ اگر طبائع طلبہ کی جانچ ہونے لگے جو جس کام کے زیادہ مناسب دیکھے جائیں معقول وظیفہ دے کر اس میں  لگا دیے جائیں ۔تو اس کا سب سے پہلا  اور بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ہر شعبے میں وہی ا فراد نظر آئیں گے  جو اس کے اہل ہوں گے ۔اور جب ایسا ہوگا تو  خاطر خواہ نتائج  کا بر آمدہونا تو یقینی ہے۔پھر کسی کو یہ شکایت نہیں ہوگی کہ  فلاں  شعبے، فلاں  عہدے پرنا اہلوں کا قبضہ ہے۔اس لئےکہ جب جانچ ہوگی،  جس کام کے وہ زیادہ مناسب ہوں گے اسی میں لگائے بھی جائیں گے اورمعقول وظیفہ کا بونس بھی ساتھ لگا ہوگا تو سونے پہ سہاگہ والی بات  تو ہو ہی جائے گی۔ساتھ ہی آپ نے فرمایا:” ان میں جو تیار ہوتے جائیں تنخواہیں دیکر ملک میں پھیلائے جائیں کہ تحریر وتقریر اور وعظ ومناظرہ اشاعت دین ومذہب کریں“۔ تصور کیجئےتیار  کر کے علما  ملک میں پھیلا ئے جانے لگیں، تحریر و تقریر، وعظ و مناظرہ ہر طرح سے خدمت دین متین کی جانے لگے،ہر محاذ پہ باطل قوتوں سےمقابلہ کی تیاری رہے،ہر اسٹیج سےان کی بطلانیت کا مسکت  جواب دیا جانے لگے،پھر توہر جگہ اہلسنت وجماعت کا ہی بول بالا ہوگا۔ بد عقیدگی پھیلانے والوں کا حوصلہ پست اورعزم  لاغر ہوگا۔ تب لوگوں کے عقائد و ایمان پہ حملہ کرنے والوں کا کیا حشر ہوگا ؟ کیا وہ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی کامیاب ہو سکیں گے؟ جب ہمارا اس نکتہ پہ عمل ہوگا۔ آگے  آپ نے ارشاد فرمایا:” حمایت مذہب ورد بدمذہباں میں مفید کتب ورسائل مصنفوں کو نذرانے دیکر تصنیف کرائے جائیں “۔اس پہ تفصیلی گفتگو سطور آئندہ میں ان شاء اللہ آپ ملاحظہ فرمائیں گے ۔مختصراً صرف اتنا عرض کر دوں  کہ مفید کتب و رسائل حمایت مذہب اور بد مذہبوں کے رد میں تصنیف ہوتے رہیں، ملک بھر میں ان کی ترویج و اشاعت ہو،تو پھر کہیں کسی کے پاس  نہ دلائل کی کمی ہوگی نہ شواہد کی ،نہ کسی طرح کی کتاب کی کمی کا احساس ہوگا۔پھر ہمارے بہت سے علما جن کے پاس کتابوں کی دستیابی بر وقت نہیں ہو پاتی ان کی بھی شکایت  دور ہوتی نظر آئے گی۔مزید بر آں مصنفوں کو نذرانہ بھی ملنے لگے گا تو یہ کمال کی بات ہوگی کہ نہیں؟یوں ہی بڑے شہروں میں ہمارے سفیر  اور نگراں رہیں گے تو ہمیں جو  بہت سے معاملات کی اس وقت خبر ہوتی ہے جب پانی سر سے اوپر جا چکا ہوتا ہے کیا ایسی صورت میں یہ ممکن رہ پائے گا ؟  نہیں۔ بلکہ ہر  فتنہ کا بر وقت سد باب ہوگا اور فتنہ بازوں کو ہر موڑ پہ منہ کی کھانی پڑے گی۔ساتھ ہی آپ نے فرمایا: کہ ہم میں جو خدمت دین انجام دینے والے صلاحیت مند لوگ موجود ہیں لیکن اپنی معاش میں مشغول ہیں  انہیں فارغ البال کر کے دین کی خدمت ان کے سپرد کی جائے  ۔اگر اس پہ عمل ہو جائےتو  ہم اور ہم  جیسے سینکڑوں  نو سیکھئے جو مفتئ اعظم بنے پھرتے ہیں ہم سے لاکھ گنا بہتر وہ ثابت ہونگے۔ اور بالکل اخیر نکتہ جو آپ نے فرمایا کہ ”مذہبی اخبار شائع ہوں“  تو ذرا غور کیجئے ہمارے مذہبی اخبار شائع ہونے لگیں اس میں دنیا جہان کی خبروں کے ساتھ مذہبی مضمون بھی حمایت دین و مذہب میں چھپنے لگے تو ایک ساتھ ہماری بات نہ جانے کتنے لوگوں تک پہونچے گی۔اور اس طرح ہم قرآن و سنت کی صحیح تعلیم لاکھوں لوگوں تک بآسانی پہونچا کر خدمت دین متین کا ایک اہم فریضہ سر انجام دینے میں کامیاب ہوتے نظر آئیں گے۔

بیان افادیت کے بعد اب یہ جان لیا جائے کہ ان نکات پہ ہم نے کس حدتک عمل کیاا ور کس حد تک نہیں؟ اس پہ گفتگو کرنے سے پہلے آئیے اعلی حضرت کےعطا فرمودہ نکات پہ ایک دوسری جہت سے بھی غور کرلیں ، پھر جو غور کا حاصل ہو  اس  کی روشنی میں معاملہ فہمی کی کوشش کریں۔اعلی حضرت  فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان نے جتنے نکات ارشاد فرمائے ہیں تقریبا سب کا حاصل یہ ہے کہ گویا آپ کسی سے ارشاد فرما رہے ہیں کہ ایسا ایسا کیا جائے۔مثلا پہلے نکتہ میں آپ نے فرمایا: ”مدرسے کھولے جائیں“پھر فرمایا:” طلبہ کو وظائف ملے“پھر آپ نے فرمایا:” مدرسین کو بیش قرار تنخواہیں ان کی کاروائیوں پر دی جائے“  یوں ہی آپ نے طبائع طلبہ کی جانچ کے بارے میں فرمایا :” کہ جو جس کام کے زیادہ مناسب دیکھا جائے   معقول وظیفہ دیکر لگایا جائے“۔ مزید آپ نے تیار شدہ افراد کے بارےمیں فرمایا :” کہ تنخواہ دیکر ملک میں پھیلائے جائیں“ ۔ تصنیف و تالیف والے نکتہ میں آپ نے فرمایا:” مصنفوں کو نذرانے دیکر تصنیف کرائے جائیں“۔مزید آپ نے فرمایا:”  تصنیف شدہ اور نو تصنیف رسائل ملک میں مفت تقسیم کئے جائیں“۔ ایک نکتہ میں آپ نے فرمایا :” آپ کے سفیرمقرر ہوں جو آپ کو اطلاع دیں“  اسی نکتہ میں آگے آپ نے فرمایا:” سر کوبئ اعدا کے لئے آپ فوجیں میگزین اوررسالے بھیجتے رہیں“ پھر ایک  نکتہ میں یہ ارشاد فرمایا:”قابل کار لوگ جو اپنی معاش میں مشغول ہیں ان کا وظیفہ مقرر کر کے فارغ البال بنایا جائے  اور جس  کام میں انہیں مہارت ہو اس کام میں انہیں لگا دیا جائے“۔سب سے اخیر میں فرمایا: ”ملک بھر میں قیمت کے ساتھ بھی اور بلا قیمت بھی روزانہ نہیں تو کم سے کم ہفتہ وار ہر قسم کے مضامین بھیجتے رہیں“ اور ساتھ ہی آپ نے فرمایا :” آپ کے مذہبی اخبار شائع ہوں“۔

اہل خردارشاد فرمائیں: کہ امام اہل سنت نےاپنے عطا فرمودہ ان قیمتی نکات میں کن کو مخاطب کر کے بار بار فرمایا ہے کہ فروغ اہل سنت کے لئے یہ کیا جائے و کیا جائے ؟ ظاہر ہےآپ کا یہ خطاب اپنے چاہنے ،ماننے والوں،دین و سنیت کا درد رکھنے والوں یعنی ہم اہل سنت والجماعت سے ہے۔بالیقیں آپ ہمیں ہی فرما رہے ہیں کہ ایسا ایسا کیا جائے،مگر ہم نے کیا ،کیا؟۔ سطور آئندہ میں اس پہ گفتگو ہوگی۔جب   آپ کا یہ خطاب ہم اہل سنت والجماعت سے ہے تو اب یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ہم میں کون ہیں جو ان نکات کے نفاذ کی قدرت رکھتے ہیں۔ اس لئے کہ اگر ہم جیسے  مولوی بھی اس خطاب میں شامل ہوں جائیں تو بتائیں  ہم مذکورہ نکات میں سے کس کو نافذ کر نے کی قدرت یا صلاحیت رکھتے ہیں۔ہم تو قیادت کی ق سے نا واقف لوگ ملک بھر میں کہاں سے ان امور کو انجام دے سکیں گے ؟ہم مخاطب نہیں تو مخاطب کون ہے ؟یہ بیان کرنے کی تو قطعا ضرورت نہیں ۔قدرت نہ ہونے کے با  وجود ہم میں سے کچھ لوگ  اس ذمے داری کو اس طور پہ تو ضرور نبھا رہے ہیں کہ محلہ،ضلع اور صوبہ میں کچھ نہ کچھ کام اپنی بساط اور حیثیت کے مطابق انجام دے رہے ہیں۔ اور اسی نے ہماری لاج  بھی بچا رکھی ہے  وگرنہ ہمارے پاس فی الحال ایسی تو کوئی  تنظیم نہیں جو منظم طریقے پر ملک بھر میں کام کر رہی ہو ۔ ایسےنازک ملکی و عالمی حالات میں،جہاں ہر طرف سے مسلمان نشانہ پر ہیں،ہم بھی انہیں پہ نشانہ لگا کر مزید کوئی تیر مارنےکی کوشش نہ کریں ۔تخریب کو تعمیر کا جامہ پہنا کر  امت کو  بانٹنے والے لوگ اگر اب بھی باز نہ آئے تو  اس قوم کا خدا ہی حافظ ہے ۔ہچکولے کھاتی ہوئی کشتئ امت کو غرق کرنے کی کوشش کو محمود سمجھنے والے وقت رہتے ہوئے اپنی اس مذموم حرکت سے پرہیز میں عافیت دارین  کا یقین کرتےہوئے،محض رضائے خداورسول کےلئےبلا خوف لوم لائم خلوص وللہیت کےساتھ،خدمت دین متین کےپرخلوص جزبوں کو بروئے کار لا کر، ممکن حد تک امت محمدیہ اور دین اسلام کی خدمت کی پر خلوص کوشش میں لگ جائیں وگرنہ  توحید کی امانت کی بنیاد پر آپ کا یہ دعوی تو بر حق ہے کہ نام و نشاں مٹانا آپ کا آسان نہیں ہے  لیکن یہ بھی یاد رکھیں کے آپ کے نام و نشاں کا بس نام و نشاں ہی رہ جائے گا،جو کہیں کہیں نظر آئے گا  ۔

آپ کےعطا فرمودہ نکات کا ہم نے کیا حشر کیا اس بات سے سمجھیےکہ   کچھ وقت پہلے تک  ان نکات کی زیارت کم از کم کتابوں کی پشت پہ ہو جایا کرتی تھی۔مگر نہ جانے کس حکمت و دانائی کو بروئے کار لاتے ہوئے اس کو منظر نامہ سے بھی غائب کر دیا گیا ہے۔ اے کاش !اعلی حضرت کے نام اور مسلک کی طرح  ہی ہماری سنی صحیح العقیدہ عوام ان نکات سے آگاہ ہوتی!تو ان نکات کے بعض حصوں پہ ہی سہی عمل کی صورت تو ضرور نکلتی رہتی۔مگرافسوس یہ دس نکاتی پروگرام  منظر نامہ سے اس قدر غائب ہو چکے ہیں کہ اس کےاپنے چاہنے والے بھی اگراس پہ عمل ہوتا دیکھ لیں تو خوشی یا غم میں کچھ ایسا کر بیٹھے  جنکا انہیں خود اندازہ نہ ہو۔فروغ اہل سنت کےلئے امام اہل سنت کے عطا کردہ دس نکاتی پروگرام سے اس طرح کا سلوک ظلم کی ایک نئی مثال ،جبر کا ایک نیا باب ہے۔مسلک وملت کی خدمت کےجزبہ دروں سےخالی ہونے کی علامت اور بزرگوں کی بات نہ ماننے کی ایک مثال ہے۔بہی خوان مذہب و ملت کے دامن پہ ایک داغ اور ہم جیسے تمغہ لئےپھرنے والوں کی شخصیت پہ ایک دھبہ ہے۔ اب بھی وقت ہے انفرادی طور پہ مسلک و ملت کی جتنی خدمت خلوص وللہیت کے ساتھ جو بھی کر سکتا ہو ضرور کرے اوراس سلسلہ میں کسی ملامت کرنےوالےکی ملامت کی پرواہ ہرگز نہ کرے۔انفرادیت کے ساتھ اس لئے کہنا پڑ رہا ہے کہ پچھلے کچھ سالوں میں اجتماعیت کاجو نقصان دیکھنے کو ملا ہےاس سےیہ یقین سا ہو گیا ہے کہ کام اجتماعی نہیں انفرادی طور پہ ہی ہو سکتا ہے۔

خیر آئیے اب بات کی جائے فروغ اہل سنت کے لئے اعلی حضرت کے دس نکاتی پروگرام کی۔پہلے پہل ہم  اختصار کے ساتھ جاننے کی کوشش کریں گے کہ فروغ اہل سنت کے لئے  فی زماننا  کیا کیا  کوششیں  کی جا رہی ہیں ،پھر یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ دس نکاتی پروگرام میں سے ہر ایک پہ ہمارا عمل ہے ،یا کسی ایک پہ بھی عمل نہیں، یا چند پہ ہے چند پہ نہیں ۔چونکہ اختصار  بھی ملحوظ نظر ہے اس لئے  زیادہ کچھ نہ جان کر آئندہ سطور میں فقط یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ ہمارا اس دس نکاتی پروگرام پہ عمل ہے یا نہیں؟ پھر اس کے بعد ان شاء اللہ تفصیل سے جانیں گے کہ دس نکاتی پروگرام کا ہم نے کیا حشر کیا ۔

jamia fatima tuz zohra

عظیم الشان مدرسے کھولے جائیں باقاعدہ تعلیمیں ہوں

فروغ اہل سنت کے لئے پہلا نکتہ امام اہل سنت کی جانب سے یہ ہے کہ”  عظیم الشان مدرسے کھولے جائیں ،با قاعدہ تعلیمیں ہوں“۔اس پہلے نکتہ پہ ہمارا کتنا عمل ہے ؟ اس کا سرسری جائزہ لیں یا تفصیلی۔بنتیجہ ایک ہی نکلتا ہے کہ عظیم الشان مدرسےتک تو بات ٹھیک ہے لیکن با قاعدہ تعلیمیں ہو ں اس کا رواج تو ہمارے یہاں کب کا ختم ہو گیا ۔فقط بعض مدارس ایسے  ہیں جو عظیم الشان بھی ہیں اور با قاعدہ تعلیمیں بھی ہوتی ہیں لیکن ان کی تعداد اتنی مختصر ہے کہ آبادی بڑھانے  کا الزام سہنے والے مسلمانوں کے لئے  ناکا فی ہے ۔لہذا ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ ہم  نے اعلی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ کے عطا کردہ   اس نکتہ پہ عمل کیا بھی اور نہیں بھی۔اس لئےکہ عظیم الشان مدرسے کھولے گئے یہ بات تو مانی جا سکتی ہے لیکن باقاعدہ تعلیم  کا انکار تو کیا ہی جا نا چاہئے ۔یہاں یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ محض معاملہ یہ نہیں ہے کہ با قاعدہ تعلیم نہیں ہوتی۔ اس کے ساتھ ایک گوشہ یہ بھی ہے کہ ہمارے بہت سے احباب با قاعدہ تعلیم حاصل بھی نہیں کرتے ۔بس جیسے تیسے مدرسہ میں ماہ و سال گزار کر معاشرہ میں آ دھمکتے ہیں اور موقع بموقع نیم ملا خطرہ ایمان سے ذرا کم درجہ والی شرارت کر  کے اختلافات کی نئی نئی بیج بونے میں اس حد تک محنت کرتے ہیں کہ محسوس ہوتا ہے  کہ زندگی اسی کام کے لئے ہی دی گئی ہے۔ اور تعجب یہ کہ آج تک انہیں یہ احساس نہیں ہو سکا کہ جنہیں وہ قابل فخر کارنامہ سمجھ رہے ہیں وہ قابل مذمت کام ہے۔میری سمجھ میں  ایسوں کا فقط یہ علاج ہے کہ انہیں لا علاج سمجھ کر چھوڑ دیا جائے،ان کی ہر شرارت کو ان کی نادانی پہ محمول کر کے خلوص و للہیت کے ساتھ آگے بڑھا جائے،ان کےکسی بھی الزام کا جواب نہ دےکرحافظ ملت کے قول پہ عمل کرتے ہوئے  ان جیسوں کا جواب کام سے دیا جائے(ہر مخالفت کا جواب کام ہے،حافظ ملت علیہ الرحمۃ)۔

طلبہ کو وظائف ملے کہ خواہی نہ خواہی گرویدہ ہوں

امام عشق و محبت نے فروغ اہل سنت کے لئے یہ دوسرا نکتہ عطا فرمایا ہے اس پہ گفتگو ہی کیوں کی جائے ؟کیوں نہ بے چون و چرا تسلیم کر لیا جائے کہ ہم وظیفہ نام کے کسی لفظ سے واقفیت ہی نہیں رکھتے ۔ ہمارے یہاں جس طرح وظیفہ نہ دینے کا رواج ہے باالکل اسی طرح اگر کہیں سے وظیفہ آ جائے تو چٹ کر جانے کا بھی رواج ہے۔ہاں اس حقیقت سے بھی انکار نہیں ! کہ جماعتی اعتبار سے ابھی ہم اتنے مستحکم نہیں اور نہ ہی ایسا کوئی نظام ہمارے پاس ہے کہ ہم وظیفہ تقسیم کر سکیں۔اور ویسے بھی جو جماعت مدارس کو چندہ دے کے احسان کرتی ہے اگر وظیفہ بھی دینے لگے تو  نہ جانے کتنے سربراہان اور مہتمم حضرات کو اپنے اپنے عہدہ سے ہاتھ  دھونا پڑجائے۔اس سلسلے میں خوش کن بات یہ ہے کہ  اس دور میں بھی  بعض مدارس میں فضیلت کے بعد مزید تعلیم حاصل کرنے والوں کو بطور وظیفہ کچھ نہ کچھ ادارہ کی جانب سے دیا جاتا ہےاور اگر  سال دو سال  میں صوبائی حکومت کی جانب سے  طلبہ کے لئے وظیفہ  آ جائے تو  دے دیا جاتا ہے۔تو گویا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس نکتہ پہ نام کے لئے ہمارا عمل ہے۔

مدرسین کی بیش قرار تنخواہیں ان کی کاروائیوں پر دی جائے

کیا؟تنخواہ مدرسوں کو بھی ملنی چاہئیے ؟ انہیں کیا ضرورت ہے ؟  تنخواہ  تو ضرورت مندوں کو ملنی چاہئے؟ان کی کون سی ضرورتیں ہیں جو ان کو تنخواہ دی جائے۔ان کے اور ان کے بچوں کے لئے من اور سلوی کا آسمان سے نزول تو ہوتاہے نہ ۔اور اگر نہیں بھی ہوتا  تو کیسے مولوی ہیں جو حضور کی سنت سےدور ہیں؟ داہنے ہاتھ سےکھانا، بسم اللہ پڑھ کےکھانا، کھانےکےبعد دعا پڑھنا،قیلولہ کرنا۔ سنت نبوی، فقط انہیں اشیاء میں محدود ہے؟ پیٹ پر پتھر باندھنا بھی تو نبی کی سنت ہے۔کئی کئی دن تک بھوکے پیاسے رہنا یہ بھی تو نبی اور آل نبی کی سنت ہے۔ ان پہ عمل کون کرے گا ؟حضور نے جب غربت کو پسند کیا با وجود اس کے کہ اگر وہ چاہتے تو ساتھ میں پہاڑ سونا بن کے چلتا تو ان مولویوں کو دولت  کی اتنی ہوس کیوں ہے ؟ پھر حد سے زیادہ عقلمند لوگ ذہنی خرافات کے نتیجے میں  پیدا شدہ سوالات کا جواب بھی خود ہی یوں ڈھونڈ نکالتے ہیں۔اچھا !سمجھ گیا  ۔صرف نام کے مولوی ہیں ۔اور اتنے پر رک جاتےتو غنیمت تھی ۔ مگر آگے مزید کچھ یوں گویا ہوں گے ”انہیں نام کے مولویوں کی وجہ سے جماعت کا برا حال ہے“۔ یعنی آپ یہ سمجھ لیجئے کہ وہ دس طرح کی بات کریں گے اور بالآخیر نتیجہ یہ نکلے گاکہ انہیں تنخواہ کی ضروت نہیں  بلکہ اگر کہیں تنخواہ معقول ہے تو اسے بھی کسی طرح کم کیا جائے اور اسے سماج کے کسی  اہم کام میں لگایا جائے۔یہ مولوی دین پڑھا کے ،ہمارے بچوں کو قرآن سکھاکے،کون سا اہم کام کر رہے ہیں ؟ جو ان کو معقول تنخواہ دی جائے۔ویسےمعقول سے یاد آیا کہ معقولیت میں اتنا تفاوت کس قاعدہ سے ہوا ہے کوئی صاحب بتا دیں تو مہربانی ہوگی۔ کہ پروفیسر کی معقول تنخواہ پچاس ہزار ہے اور مولوی کی معقول تنخواہ پانچ سے دس ہزار کے بیچ ۔آئیے مل کے اقرار کرتے ہیں کہ اس نکتہ پہ بھی ہمارا کما حقہ عمل نہیں۔ اور ساتھ ہی یہ عہد بھی کر لیں تو بہتر ہوگا کہ مستقبل قریب میں بھی ان کی تنخواہ نہیں بڑھنے دیں گے اور اگر بڑھائی گئی تو دھرنا پردرشن کر کے ،سڑکوں پہ احتجاج کر کے ان کی تنخواہ رکوائیں گے ۔

jamia fatima tuz zohra

طبائع طلبہ کی جانچ ہوجو جس کام کے زیادہ مناسب دیکھا جائے معقول وظیفہ دیکر اس میں لگایا جائے

اے کاش !ایسا ہو پاتا تو ہزاروں محنتی طلبہ کی صلاحیتیں ضائع نہیں ہوتی۔خدمت دین متین کا ان کا جزبہ زندہ درگور نہیں ہوتا۔وہ بھی کہیں کے آفتاب و ماہتاب بن کر چمک رہے ہوتے۔مگر افسوس وہ ذہین طلبہ بھی بعد فراغت غیر معقول وظیفہ پہ کہیں نہ کہیں  رہ کر بس اپنا اور گھر والوں کا  پیٹ پال رہے ہیں۔جہاں تک بات رہی معقول وظیفہ کی تو اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مختلف جامعات میں بچوں کو اعلی تعلیم کے حصول کے لئے وظیفہ کی رقم دی جاتی ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ جو ابتدائی تعلیم کے لئے بھی وظیفہ کا محتاج ہے وہ اعلی تعلیم کی منزل تک کیسے پہونچے گا ؟۔

ان میں جو تیار ہوتے جائیں تنخواہ دیکر ملک میں پھیلائیں جائیں کہ تحریر و تقریر وعظ و مناظرہ اشاعت دین و مذہب کریں۔

jamia fatima tuz zohra

دین و مذہب کا اتنا درد  واقعی کسی مجدد کے سینے میں ہی ہو سکتا ہے، وگرنہ یہ زمانہ تو تنخواہیں لیکر  اپنی زمین جائیداد پھیلانے  کا ہے۔اشاعت دین و مذہب کی فکر کوئی معمولی بات تو نہیں اور ہر ایک کے بس کی بات بھی نہیں اس لئے ہر ایک نے اپنے اپنے طور پہ اس سے کنارہ کشی اختیار کر رکھی ہے۔ مگرفقط اتنا بیان کر کے آگے بڑھ جانا میں سمجھتا ہوں نا انصافی ہوگی۔یہ ہم سب کو قبول کرنا چاہئے کہ تحریر و تقریر کی شکل میں اشاعت دین و مذہب کی کوشش کی جا رہی ہےاور کوشش کامیاب بھی ہو رہی ہے۔لیکن اس میں طوفانی تیزی لانےکی ضرورت ہے۔ساتھ ہی یہ بھی عرض کروں گاکہ تقریرکی صورت میں تبلیغ کےخد وخال میں کافی نکھار لانے کی ضرورت ہے اور جس میں سب سے پہلا کام  موضوع اور وقت کا تعین ہے۔

تصنیف شدہ اور نو تصنیف رسائل عمدہ اور خوشخط چھاپ کر ملک میں مفت تقسیم کئے جائیں۔

تصنیف شدہ اور نو تصنیف رسائل۔ یہ دو ایسی باتیں ہیں کہ جس پہ عمل کرنا تو لوگوں نے گناہ سمجھ رکھا ہے۔کسی زمانے میں اس پہ عمل رہاہوگااس سےانکار نہیں۔حالیہ دور میں اس میں اتنی کمی آچکی ہے کہ اگر یہ کہا جائےکہ اس پہ ہمارا عمل نہیں،تو شاید ہی کوئی انکار کرنے والا ملے۔اس جماعت کو تصنیف سے کیا مطلب؟ سال بھر جلسہ ہوتا  ہے،پر زورتقریر ہوتی ہے،توسنیت کا کام تو ہو ہی رہا ہے۔لہذا  تصنیف اور نو تصنیف رسائل وہ بھی عمدہ اور خوشخط چھاپنے کی کیا ضرورت ہے؟یوں بھی اگر جلسوں سےپیسے بچ پائیں گے تبھی تو  کسی اور طرف لگایا جائے گا۔ عوام پہ اتنا زور نہ ڈالا جائے کہ جلسے بھی وہ کروائیں اور تصنیف اور نو تصنیف رسائل کے چھپنے کا بھی وہ ہی انتظام کریں۔مزیداس نکتہ میں آپ نےمفت رسائل تقسیم کرنے کی بات ارشاد فرمائی ہے۔مفت میں تقسیم کرنے والی بات تو  ایسی نادر ہو چکی کہ اگر اس کی شروعات ہو جائےتو یہ کہنابجاہوگا کہ ایک عجیب رسم کی شروعات ہوگی۔عوام اہل سنت مفت کے چیزوں کی اتنی عادی ہو چکی کہ کتابیں مفت میں تقسیم کی جانےلگےتو نہ پڑھنےوالےبھی اتنی کتابیں جمع کر لیں کہ اگر محض ان کی لائبریری سے ان کے علم کا اندازہ لگانے کی کوشش کی جائے،تو علامہ سےکم کوئی عہدہ ان کے لئے مناسب نہیں ہوگا۔

شہروں شہروں آپ کے سفیر نگراں رہیں جہاں جس قسم کے واعظ یا مناظر یا تصنیف کی حاجت ہو آپ کو اطلاع دیں آپ سر کوبئ اعدا کے لئے اپنی فوجیں میگزین اور رسالے بھیجتے رہیں

jamia fatima tuz zohra

شہروں شہروں سفیر اور نگراں مقرر کرنا،مزید حسب ضرورت واعظ ،مناظر یا میگزین و رسائل بھیجتے رہنا، سامنے والے سے حالات کی خبر لیتے رہنا اور پھر اسی کے مطابق لائحہ عمل تیار کرنا۔ کیا اس زمانہ میں ایسا کرنے والوں کو عبرت ناک  سزا محض اس وجہ سے نہیں دینی چاہئے کہ جس کام کو کسی نے نہیں کیا وہ کون ہوتا ہے کرنے والا ؟۔جب سب نے چھوڑ رکھا ہے تو لازم ہے کہ اس چھوڑ رکھنے میں کوئی حکمت ہوگی ۔ کیا اس نے فقط خود کو عقلمند سمجھ رکھا ہے؟ اجماع امت کو توڑنے والا اور اس کے خلاف اقدام کرنے والا وہ کون ہوتا ہے ؟

جو ہم میں قابل کار موجود اور اپنی معاش میں مشغول ہیں وظائف مقرر کر کے فارغ البال بنائے جائیں اور جس کام میں انہیں مہارت ہو لگائے جائیں

جوقابل کار ہیں وہ کام میں لگے ہوئے ہیں الحمد للہ۔مگر قابل کار افراد کی  قلت اور ناکارہ افراد کی کثرت نے ایسا کرشمہ دکھا رکھا ہے کہ چند قابل کار لوگ ہزار بے کار لوگوں کی بھیڑ میں گم ہو چکے ہیں اور ناکاروں کی بھیڑ میں اپنے  کارآمد  وجود کو کسی طرح بچا رکھنے میں کامیاب ہیں۔  اگر کوئی قابل کار ابھرتا بھی ہے تو ہر علاقہ میں ایسے ناکارہ لوگ ضرور موجود ہیں جو اس قابل کارکو بے کار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ اور افسوس یہ سب کارنامہ خدمت دین  کے پردہ  میں  سرپرستوں  کی خوشنودی کے لئے کی جاتی ہے۔آہ اس نام کی خدمت نے تو ہم کو کہیں کا نہ چھوڑا۔ اسی نکتہ میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ وظائف مقرر کئے جائیں اور فارغ البال بنائے جائیں ۔جب کہ ہم وظیفہ غبن کر کے فارغ البال بننے کے دور میں زندہ ہیں ۔اور ساتھ ہی آپ نے فرمایا جس کام میں انہیں مہارت ہو اسی کام میں لگا دیا جائے ۔اب چغل خوری، عیب جوئی، تفرقہ بازی میں مہارت رکھنے والوں کو کہاں لگایا جائے؟ قابل افسوس بات یہ ہے کہ بات مہارت کی ہو رہی ہے تو مہارت تو کسی چیز میں نہیں تو پھر کہاں لگائے جائیں لہذا خود ہی کہیں لگے ہوئے ہیں۔

آپ کے مذہبی اخبار شائع ہوں اور وقتا فوقتاًہر قسم کے حمایت مذہب میں مضامین تمام ملک میں بقیمت یا بلا قیمت روزانہ یا کم از کم ہفتہ وار پہونچاتے رہیں

ہمارا مذہبی اخبار کتنا شائع ہوتا ہے یہ ہم سب جانتے ہیں۔ہاں حمایت مذہب میں مضامین مختلف دینی رسائل میں موقع بہ موقع پڑھنے کو ملتے رہتے ہیں۔البتہ روزانہ یاکم از کم ہفتہ میں نہیں،بلکہ مہینے دو مہینے میں۔یہاں اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا مناسب ہوگا کہ حمایت مذہب میں مضامین شائع ہونے والے اکثر مضامین انہیں رسالوں میں شائع ہوتے ہیں جن کے قاری ہم طالب علم یا ہم طالب علموں کے اساتذہ ہیں۔میں سمجھتا ہوں ان رسائل کا دائرہ مزید   وسیع ہونا چاہئےتا کہ ہمارے قارئین کی فہرست میں چند ان لوگوں کا بھی نام شامل ہو جو بالکل خالی الدماغ ہیں اورراہ حق کے متلاشی ہیں۔یوں ہی ہمارا دینی رسالہ ان لوگوں تک بھی پہونچنا چاہئے اورہمیں اس کی بھر پور کوشش بھی کرنی چاہئے جو مختلف پیشے اور کاروبار سے تعلق رکھتے ہیں اورپڑھنے کا شوق رکھتے ہیں۔اس کےلئے آپ کو رسالہ کا زبان و بیان آسان کرنا ہوگا۔خالص اردو اور تحقیقی نہج سے ہٹ کر عوامی لب و لہجہ اختیار کرنا ہوگا۔بلکہ اردو زبان  کے ساتھ ساتھ ہندی یا انگلش میں اپنا رسالہ چھاپنا ہوگا،یا اردو کے ساتھ ساتھ انگلش  و ہندی میں بھی اپنا رسالہ شائع کرنا ہوگا۔اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کا خالص،صاف شفاف دین دوسروں تک پہونچے گا اور اس طرح اہل حق کی تعداد میں بہ لفظ دیگر دین کا صحیح سمجھ رکھنے والوں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہوگا۔ اسی نکتہ میں آپ نے بقیمت یا بلا قیمت کی بات ارشاد فرمائی ہے۔اس نکتہ پہ کما حقہ کچھ تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ہاں بلا قیمت کتب و رسائل بھیجنے کی  شکل اتنی بدلی ہوئی ہے کہ ہمیں اندازہ نہیں ہوپاتا کہ در حقیقت یہ اعلی حضرت کے عطا فرمودہ نکات میں سے ایک نکتے پہ عمل ہے۔انٹرنیٹ کا دور ہے۔ مختلف تنظیمیں اور تحریکیں اپنی اپنی سائٹس پہ مفید دینی کتابیں وقفہ وقفہ سے اپلوڈ کرتی رہتی ہیں جنہیں بآسانی ڈاؤنلوڈ کر کےبلا قیمت ادا کئے پڑھا جا سکتا ہے۔یہ بھی تو مفت تقسیم کئے جانے کی ہی ایک صورت ہے۔

 

Share
Share